3

3, 12, 21, 30 : تاریخِ پیدائش

 

 

علم الاعداد کے نقطۂ نظر سے یہ نمبر علماء، فضلاء اور مذہبی آدمیوں سے متعلق ہے، مذہبی بزرگی کی علامت یہ ہے کہ یہ ہر امر میں اچھائی کا پہلو دیکھتے ہیں۔

آپ کے ذاتی اوصاف اور حالات

نمبر کا تعلق مشتری سے ہے، یہ اچھائی کا نشان ہے۔ جن لوگوں کے نام کا عدد ۳ ہو تو کریکٹر اور مزج پر اثر وارد کرے گا اگر تاریخ پیدائش کا نمبر ۳ ہو تو تقدیر کے احکام کا مظہر ہوگا۔

یہ نمبر اعلیٰ سپرٹ، زندہ دلی، اور ظرافت کا مظہر ہے، جن لوگوں کے اعداد میں یہ غالب ہو ان میں اپنے خیالات کے اظہار کی زبردست خواہش ہوتی ہے۔ نمبر ۳ والے کو بولتے وقت آواز ایسی رکھنی چاہئے کہ تمام مجمع کو سنائی دے۔

نمبر ۳ والے افراد میں نمبر ایک اور نمبر دو والوں کی امتیازی خصوصیات ہوتی ہیں۔ نمبر ۳ میں محض انتظامی و اہمتمامی قابلیت ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے حصول کے لئے وہ خاص حکمت عملی کو کام میں لاتے ہیں ۔ اپنے ماتحتوں کے لئے وہ نمایاں صفات کے حامل لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی قابل بھی اور شریف بھی۔
ان کے کلیدی اوصاف درج ذیل ہیں۔۔

تخریبی اوصاف تعمیری اوصاف تخریبی اوصاف تعمیری اوصاف
مکّاری امید ویقین تکبر متانت
نفس پرستی منطقی غیر ذمہ داری آزاد رویہّ
مبالغہ آمیزی ہر دلعزیزی جدائی قابل اعتبار

شخصیت

اس نمبر کے زیر اثر افراد ملنسار اور کسی حد تک سماجی خیالات اور عادات کے مالک ہوتے ہیں۔ یہ ان کی فطرت ثانیہ ہے کہ وہ مقبولِ عام ہوں۔ اس لئے وہ جگہ جگہ آنے جانے اور سیرو تفریح کرنے میں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ یہ چاہے مرد ہوں یا عورت اگر کسی کی دعوت کریں تو ان کا دستر خوان طرح طرح کے خوانِ ہائے نعمت سے بھرا ہوا ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ خوش خوراک اور بااسلوب فطرت کے مالک ہوتے ہیں۔ جس میں مظاہرہ فن یعنی خوراک پکانے کی خاص مہارت پائی جاتی ہے۔

نمبر ۳ والے افراد اپنے طرزِ کلام کی اثر انگیزی سے دوسروں کو فوراً اپنا بنالیتے ہیں۔ اس لئے یہ بحیثیت مہمان ہرجگہ مقبول ہوتے ہیں۔ یہ دوسروں پر بھروسہ کرنے کے بھی عادی ہوتے ہیں۔ اپنا بوجھ دوسروں کی گردن پر ڈالنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔ بعض اوقات وہ اس احساس کو شدت سے جھٹک دیتے ہیں کہ ہم کسی کے لئے کیوں باعث گرانباری بنیں۔ مگر اس احساس کے باوجود بھی یہ لوگ ایسا کرتے ہیں۔ ان میں قدرت نے یہ فطرت رکھی ہے کہ دوسروں پر اچھا اثر چھوڑ یں تاکہ وہ ہمیشہ کیلئے متاثر رہیں۔


سرگرم عمل
نمبر ۳ والے لوگ تنہائی میں بیحد بوریت محسوس کرتے ہیں۔ یہ بھی ان کے تصورات کا حصہ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ یہ اعتقادبھی رکھتے ہیں کہ اعتماد اور خود شناسی سے کافی مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔ یہ لوگ واضح الاعتقاد ہو ںیا نہ ہو ں زندہ دلی انہیں پسند ہے۔ اگر وہ گھوم نہ رہے ہوں تو کسی دوسری قسم کی مصروفیت ان کیلئے وجۂ تسکین ہوسکتی ہے۔

اوضاع و اطوار کے لحاظ سے نمبر ۳ والی عورت، نمبر ۳ والے مرد کے مشابہ ہوتی ہے۔اپنی کمزوریوں کے باوجود ذوقِ سلیم اور پاکیزگی کا مجسمہ ہوتی ہے۔ وہ طبعاً خوش پوش ہوتی ہے۔ رنگوں کے انتخاب میں اسے خاص ملکہ حاصل ہوتاہے۔ اس کا گھر مہمان خانہ ہی رہتا ہے۔ وہ مجلسی زندگی کو پسند کرتی ہے ۔ خوانگی مصروفیت کے باوجود محفلوں میں نقل و حرکت کرتی ہے۔ اس کے دوستوں کا حلقہ بہت وسیع ہوتا ہے۔

چال چلن

جو لوگ اس نمبر کے زیر اثر ہوتے ہیں، وہ خوشیوں اور غیر متزلزل یقین کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کا اعلیٰ اور ارفع مقصد کسی چیز کی بنیادی خصوصیت کا پتہ چلانا ہوتا ہے۔ یعنی وہ تحریک ، باریک بینی اور مطالعاتی حس کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ پریشانیوں اور اداسیوں میں گھرے رہتے ہیں۔ ان کے تصورات میں زود حس ہونے کی وجہ سے ابال سا رہتا ہے۔ ان میں یہ بھی خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو جلد متاثر کرلیتے ہیں۔ مگر خود متاثر ہونے کی علّت سے نابلد ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایسے نمبر والے اکثر لوگ خود پسندی اور خود غرضی کا شدت سے شکار ہوجاتے ہیں۔

وہ ہر وقت اپنے ہی پیدا کردہ خیالات میں گھرے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے پریشانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ یہ لوگ اپنی خوشی کی خاطر کامیابی حاصل کرنے کے شدت سے متمنی ہوتے ہیں۔ نہایت شدومد سے اس کی کوشش میں لگے رہتے ہیں تا کہ اپنی تمنّاکی بارآفرینی سے لطف اندوز ہوسکیں۔ ان کی زندگی رومان پرور ماحول میں بسر ہوتی ہے۔ یہ لوگ بیرونی ممالک کی اشیاء کا استعمال کرنا فخر خیال کرتے ہیں۔ کاریں، کوٹھیاں رکھنا ان کی شانِ خود نوازی کا اہم حصہ ہوتی ہیں۔ اچھا لباس، خوش خوراکی، تخیلاتی لبادے ان کی زیست کو سرگرم رکھتے ہیں۔

فطرت

مہمانی یا مہمان نوازی کیلئے ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں۔ دوسروں کے رنج و غم بھلاسکتے ہیں کیونکہ ان کا رجحان طبعی طور پر زندگی کے روشن پہلو کی طرف ہوتا ہے ۔ لطیفہ گوئی ان کا خاصہ ہے ۔ جتنے وہ خوش مزاج ہوتے ہیں اتنے ہی خود دار بھی ہوتے ہیں۔
نمائش کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اعتدال سے تجاوز کررہے ہیں۔ وہ آسانی سے اعتماد شکنی کا ارتکاب کرسکتے ہیں۔ لہٰذا راز داری کے قابل نہیں ہوتے۔وہ روپیہ خرچ کرنے میں بھی اعتدال سے کام نہیں لیتے۔ دولت آسانی سے حاصل کرلیتے ہیں اور آسانی سے خرچ کردیتے ہیں۔ حدِّ اعتدال کا تعین نہ کرسکنے کی وجہ سے وہ ہمیشہ تجاوز کا شکار رہتے ہیں ۔ تا ہم وہ کسی کمینے پن کی طرف مائل نہیں ہو تے۔ یہی وجہ ہے کی کسی معاملہ کی اہمیت کو کم کرنے کی بجائے وہ زیادہ اہمیت دینے کے عادی ہوتے ہیں اور نادانستہ مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں ۔ وہ کسی معاملے کی تشہیر میں کوئی ہرج نہیں سمجھتے۔

باوجود ان عادات و اطوار کے نمبر ۳ والے اپنی آزادی میں خاصے محتاط واقع ہوئے ہیں۔ دوسروں کے خیالات کی پیروی کرنے سے انہیں یک گونہ نفر ت ہے۔ وہ بلامقصد کوئی مصیبت سر پر مول نہیں لیتے۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے اسے قائم بالذّات خیال کریں۔ کسی دوسرے پر انحصار بھی نہیں کرتے، لہٰذا اس قدر مغرور ہوتے ہیں کہ کسی دوسرے سے امداد لینے میں اپنی ہتک خیال کرتے ہیں اور اسے ایک ذلیل فعل تصور کرتے ہیں۔

ان کا حربہ
یہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اگر نتائج ان کی توقع کے خلاف ہوں تو یہ رنجیدہ نہیں ہوتے۔ کیونکہ وہ فلاسفر ہوتے ہیں۔ اپنی ناکامی کی دلیل کو کسوٹی پر ، پرکھنے کا اندازہ رکھتے ہیں۔ جب بے عمل ہوتے ہیں تو ذمہ داری اور فرض شناسی سے کوتاہی کرتے ہیں، وہ بھی اس طرح کہ راہ چلتے وقت معمولی کھیل تماشے کی طرف متوجہ ہو کر ضروری کام کا نقصان بھی کرسکتے ہیں۔ وہ کاروبار اور دوستی کی آمیزش بہترین طریقے سے کرسکتے ہیں۔ مخالف کا مقابلہ کرنے کے بہت سے طریقے ہیں مگر نمبر ۳ والے بس ایک ہی طریقہ جانتے ہیں کہ اپنے دشمن کو اپنے حسنِ سلوک سے اتنا متاثر کر لیں کہ وہ ان کی مخالفت ترک کرکے حمایت کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ہ، خودارادی اور غیرت رکھنے والے ہوتے ہیں۔

جب بھی ان کو کسی کام میں مشغول دیکھو تو یہ سمجھ لو کہ یہ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور ایسے اشخاص کی پہچان کچھ مشکل نہیں ہوتی وہ ہمیشہ اپنی پوزیشن میں رہتے ہیں۔ ہر جگہ نمایاں اور اول رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے لئے کسی کام میں ناکام رہنا گویا ان کی ذلت ہے اور جب تک کوئی خاص درجہ نہ حاصل کرلیں ان کو خوشی حاصل نہیں ہوتی۔نہ سرور آتا ہے۔ جب تمام لوگوں کے دماغ تھک جائیں یا کسی کام سے عاجز آجائیں تو یہ محنت شاقہ سے اسے مکمل کر لیتے ہیں اور ایک کامیاب کاریگر ثابت ہوتے ہیں۔ موقع کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جب یہ لیڈ ر ہوں تو کامیاب رہنما ہوتے ہیں اور خطرات میں پڑنے سے نہیں چوکتے۔

اس نمبرکی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نمبر کا حامل ہر چیز اور ہر کام کو خود کرتا ہے اور جرأت اور بیباکی سے کام لیتاہے۔ اس میں میدانِ جنگ میں کارہائے نمایاں دکھانے کی حوصلہ مندی ہوتی ہے۔ اس کی طبع میں سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ خوشامند پسند ہوتا ہے۔ اپنے گرد کم عقل لوگوں کا حلقہ جمائے رکھتا ہے اور کسی کی نصیحت پر کان نہیں دھرتا۔
یہ لوگ پختہ ارادہ، خودارادی اور غیرت رکھنے والے ہوتے ہیں۔ جب بھی ان کو کسی کام میں مشغول دیکھو تو یہ سمجھ لو کہ یہ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور ایسے اشخاص کی پہچان کچھ مشکل نہیں ہوتی وہ ہمیشہ اپنی پوزیشن میں رہتے ہیں۔ ہر جگہ نمایاں اور اول رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے لئے کسی کام میں ناکام رہنا گویا ان کی ذلت ہے اور جب تک کوئی خاص درجہ نہ حاصل کرلیں ان کو خوشی حاصل نہیں ہوتی۔نہ سرور آتا ہے۔ جب تمام لوگوں کے دماغ تھک جائیں یا کسی کام سے عاجز آجائیں تو یہ محنت شاقہ سے اسے مکمل کر لیتے ہیں اور ایک کامیاب کاریگر ثابت ہوتے ہیں۔ موقع کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جب یہ لیڈ ر ہوں تو کامیاب رہنما ہوتے ہیں اور خطرات میں پڑنے سے نہیں چوکتے۔

اس نمبرکی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نمبر کا حامل ہر چیز اور ہر کام کو خود کرتا ہے اور جرأت اور بیباکی سے کام لیتاہے۔ اس میں میدانِ جنگ میں کارہائے نمایاں دکھانے کی حوصلہ مندی ہوتی ہے۔ اس کی طبع میں سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ خوشامند پسند ہوتا ہے۔ اپنے گرد کم عقل لوگوں کا حلقہ جمائے رکھتا ہے اور کسی کی نصیحت پر کان نہیں دھرتا۔

صحت

نمبر (3) سے تعلق رکھنے والے افراد کو مندرجہ ذیل مسائل کا سامنا رہتاہے:

۔زیادہ کام کرنے کی وجہ سے شدید اعصابی دبائو
۔جلدی امراض
۔بڑھاپے میں دل کے امراض کا سامنا
۔ شوگر

تاہم مناسب خوراک اور آرام سے ان بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ نمبر 3 سے تعلق رکھنے والے افراد میں چکنی اور مرغن غذائیں کھانے کا رجحان ہوتا ہے جو کہ بڑھاپے میں ان کے لئے مسائل کا سبب بنتا ہے۔ اس لئے انہیں اپنی خوراک پر کنٹرول کرنا چاہئے۔

محبت اور شادی

اس نمبر والے افراد بے حد محبت کرنے والے ہوتے ہیں اور فوراً کسی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ یہ گرفتاری دائمی ہوتی ہے۔ اکثر غیر شادی شدہ جلد ہی دل پھینک عاشق کی طرح مظاہرہ کرتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں متلون مزاجی کا شکار ہوکر مشکلات میں پھنس بھی جاتے ہیں۔ اگر کسی وقت وہ ناکامی کا شکار ہوجائیں تو دوسروں پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں نے محض نیک نامی اور اپنی نیک فطرت کی وجہ سے ہاتھ روک دیا ہے۔ مگر دل کے اندر اپنی ناکامی کا احساس شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ اگر ان کی محبت کامیاب ہوجائے تو گرم جوشی کا مظاہرہ کرکے فریقِ ثانی کو خوش رکھنے کی انتہائی کوشش کرتے ہیں۔ چاہے مرد ہو یا عورت اپنے گھراور بال بچوں کی نگہبانی کو خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے ہیں۔ بعض اوقات وہ دوسروں میں دلچسپی لے کراپنی توقیر کو خطرہ میں ڈال لیتے ہیں۔ مگر ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ہے ۔ عام طور پر وہ اپنی ازدواجی زندگی اچھی طرح گذارتے ہیں۔ وہ بلاوجہ لڑائی فساد پسند نہیں کرتے کیونکہ اس نمبر کی خصوصیات ایسی ہیں کہ فوراً دوسروں سے گھل مل جاتے ہیں۔

اگر اس کی شادی ۲،۴،۶،۷،۹ کی نسبت ۱،۵،۸ سے ہوجائے تو بڑی اچھی زندگی گزرتی ہے۔نمبر ۳ والے فطرتاً ۱،۵،۸ کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ پھر بھی وہ دوسروں کے ساتھ گھل مل سکتے ہیں۔ اس لئے وہ ہرنمبر کے ساتھ مناسب طریقہ سے گزارہ کر سکتے ہیں۔البتہ غیر موافق نمبروں سے شادی کرکے خوبیاں دب جاتی ہیں یا بے اثر ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا اس نمبر والے کو چاہئے کہ شادی کے معاملہ میں عجلت پسندی کی بجائے سکون قلب کا مظاہرہ کرے اور اپنی پسندیدہ چیز کو حاصل کرنے میں بجائے جذبات کے عقل سے کام لے۔

زندگی کی مصروفیات

اس نمبر والے افراد زندگی میں تجدیدی خیالات کے حامل ہونے کی وجہ سے جلد کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کے لئے ہر میدان میں مواقع موجود رہتے ہیں۔ مگر ان کو کسی میدانِ عمل کا انتخاب کرتے وقت سوچ سمجھ سے فیصلہ کرلینا چاہئے کہ کون سا میدان مناسب رہے گا۔ نمبر ۳ والے لوگ بحیثیت ادیب، فوٹو گرافر، اداکار، آرٹسٹ، انجینئر، مجسٹریٹ اور فلاسفر ، ترقی کی منزلیں بآسانی طے کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف تعلقاتِ عامہ، ناشر، پبلسٹی کے ذریعہ بھی مقبول عام ہو سکتے ہیں۔ اس نمبر والے افراد بہت کم ڈاکٹر یا وکیل ہوتے ہیں۔ اگر ہوں بھی تو کامیابی شاذ کو ہی حاصل ہوتی ہے۔

کاروباری میدان میں سیلز مین شپ اور کاروباری اداروں میں معاملات عامہ کے لئے بے حدمفید ثابت ہوتے ہیں۔مگر دفاتر میں اپنی قابلیت کا مظاہرہ ٹھیک طرح نہیں کرسکتے۔ نوکروں کی صورت میں یہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے حلقہ میں اچھے مقام کے مالک بھی بن سکتے ہیں۔ اگر یہ لوگ کسی کلیدی عہدے پر فائز ہوجائیں تو مفید ثابت ہوتے ہیں۔ دوسروں کے خیالات اگر تعمیری ہوں تو بڑی خوشی سے قبول کر لیتے ہیں اور اپنے ماتحتوں سے خوش اخلاقی کا برتاؤ کرتے ہیں اور ان کو انعامات دینے سے بھی نہیں چوکتے۔ نمبر ۳ والے اشخاص اپنی دوکان کبھی بندنہیں رکھتے۔ کیونکہ وہ کاروبار بند کرکے خلوت میں نہیں رہ سکتے۔

نمبر ۳ والوں کو چاہئے کہ اپنے آپ پر اعتماد رکھیں۔ اپنی خوش مزاجی کے نظریہ کو قائم رکھیں کامیابی اور شہرت ان کے قدم چومے گی۔ زیادہ سنجیدہ بنیں گے تو خطاکھائیں گے۔ ان کی شبانہ روز مجلسی مصروفیات ان کو غم و رنج سے بچائے رکھیں گی۔ علم الاعداد کا ماہر جو مشورہ ان کو دے سکتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ رکھیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ ۱،۲،۳،۴،۵،۶ نمبرو ں کے ساتھ مل کر کام کریں نمبر ۷ کبھی کبھی فائدہ دیتا ہے اور کبھی نقصان بھی۔ اس کے ساتھ سوچ سمجھ کر چلنا چاہئے۔۔

مالی حالت

یہ لوگ مالی حالات میں متوازن ہوتے ہیں ۔ مگر ان کے پاس اپنا روپیہ پیسہ کم ہوتا ہے۔ دوسروں کے روپے سے کام کرتے ہیں۔ اگر ان کی ذاتی دولت ہو تو اس کا مصر ف اچھانکالتے ہیں۔ یعنی اپنے دوستوں کو پارٹی دینا۔ ان کے خیال میں روپیہ بنک میں رکھنا بے کار ہوتا ہے۔ وہ روپے پیسے سے خوشیاں خریدنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ سرمایہ خوشی سے جمع نہیں کرپاتے۔ خوش قسمتی ان کیلئے یہ ہوتی ہے کہ وہ جتنا خرچ کرتے ہیں اتنا آسانی سے پیدا کرلیتے ہیں۔ انکے نزدیک روپیہ ہاتھوں کا میل ہوتا ہے۔ جو آتا جاتا رہتا ہے۔

اہم نکات

وہ لوگ جو ۳،۱۲،۲۱،۳۰ تاریخوں میں کسی بھی ماہ پیدا ہوئے ہوں ۔ ان پر بھی نمبر ۳ کا اثر ہوتا ہے۔ اور وہ تمام بڑے اعداد جن کا مفرد نمبر ۳ ہو وہ ان کے موافق ہوتا ہے۔ اس نمبر کے سلسلہ میں ۳،۶،۹ آتے ہیں۔ ہر ایک میں تیسرے درجے کا فرق ہوتا ہے اور ان کے مجموعہ میں انہی میں سے ایک پوشیدہ عدد ہوتا ہے۔ اس لئے ۳،۶،۹ والے لوگ ایک دوسرے سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اگر اپنے اہم کام ۳،۱۲،۲۱،۳۰ تاریخوں میں کریں تو کامیاب رہیں گے۔

خصوصاً سال بھر میں ۲۰ فروری سے ۱۹ مارچ کے درمیان یا ۲۳ نومبر سے ۲۲ دسمبر کے درمیانی عرصہ میں یہ تاریخیں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کے لئے جمعرات کا دن خوش بختی لاتا ہے۔ پھر جمعہ اور منگل بھی موافق ہوتا ہے۔ سنگِ یاقوت کا پاس رکھنا مفید ہے۔ اگر یہ ارغوانی یا نیلگوں اور گلاب کے رنگ کو استعمال کریں تو خوش بختی لائے گا۔

Get in Touch with Mian Naeem